کسی بھی چیز کو جلد کیسے یاد کریں،پڑھائی کیسے کریں؟بہت ہی آسان طریقہ

  How to Memorize some things fast!


 آپ کسی چیز کو یاد کرتے ہو اور صحیح وقت آنے پر بھول جاتے ہو تو یہ آرٹیکل خاص آپ کیلئے ہیں کسی بھی چیز کو جٹ میں یاد کرنے کے کچھ طریقے ہوتے ہیں۔اگر آپ ان ان طریقوں کو جان لیں گے تو آپ بھی کسی بھی چیز کو بہت دیر تک یاد رکھ سکیں گے۔دراصل ہم یاد کم کرتے ہیں اور رٹا زیادہ لگاتے ہے،ہم کسی بھی چیز کو رٹا مار کر یاد کرنے کی کوشش کرتے ہے،اور صحیح وقت آنے پر پھر بھول جاتی ہے۔اگر آپ کسی چیز کی یاد کرنے کا صحیح طریقہ یعنی میتھڈ جان لو تو پھر آپ بھی کسی چیز کو لمبے عرصے تک یاد رکھ سکتے ہیں۔

جس طرح ہمارے موبائل یا کمپیوٹر کے دو سٹوریج ہوتے ہیں ایکسٹرنل سٹوریج اور انٹرنل سٹوریج۔اسی طرح ہمارے دماغ کی بھی دو سٹوریج ہوتی ہے،ایک ہوتی ہے لانگ ٹرم میموری اور دوسری ہوتی ہے شارٹ ٹرم میموری۔ہمارے شارٹ ٹرم میموری میں وہ چیزیں سٹور ہوتی ہے جن کے ہمیں زیادہ دیر تک ضرورت نہیں ہوتی،جیسا کہ روڈ پر چلتی ہوئی لال گاڑی دیکھنا۔

اور دوسری ہوتی ہے لانگ ٹرم میموری، لانگ ٹرم میموری میں وہ چیزیں محفوظ ہوتی ہے،جن کی ہمیں لمبے عرصے سے تک ضرورت ہوتی ہے اور وہ چیزیں ہم کبھی نہیں بھولتے،اور ہمارے لانگ ٹرم میموری میں وہ چیزیں محفوظ ہوتی ہے جو بالکل الگ ہوتی ہے،یا جن چیزیں کو ہمارا دماغ ہے پہلی دفعہ ایکسپیرینس کرتا ہیں،مثال کے طور پر اگر آپ کا بھی حج پر گئے ہے تو آپ تو کبھی نہیں بھولیں گے۔اب مسئلہ یہ ہے جو کچھ بھی ہم یاد کرتے ہیں،وہ جاتا ہے ہماری شارٹ ٹرم میموری کے اندر اسے شارٹ ٹرم میموری کچھ دیر کے بعد ختم کر دیتے ہیں۔

پہلی بات تو یہ جب آپ کس چیز کو رٹو گے یعنی ریٹا مارو گے،تو یہ کبھی بھی آپ کی لانگ ٹرم میموری میں نہیں جائیں گے۔وہ چیز آپ کی شارٹ ٹرم میموری میں ہی رہی گی،جب تک کہ وہ آپ کی شارٹ ٹرم میموری میں رہیں گی اس وقت تک وہ آپ کو بڑے اچھے طریقے سے یاد رہیں گی۔لیکن جب شارٹ ٹرم میموری سے اڑ جائے گی تو پھر کبھی یاد نہیں آئے گی پھر اسے آپ ایک دم ہی بھول جائیں گے۔ اب کسی بھی چیز کو اپنے لانگ ٹرم میموری میں بھیجنے کے جو ٹریکس ہیں وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔


اونچا بول کے پڑھنا

آپ جس بھی چیز کو پڑھتے ہو اس کو اونچا بول کے پڑھا کرو،اب آپ سے کچھ لوگ کہیں گے کہ ہم پہلے سے ہی اونچا بول کر پڑھتے ہے لیکن ہمیں یاد نہیں ہوتا،ہاں بھائی یہ بات ٹھیک ہے کہ ہم میں سے زیادہ اونچا بول کر پڑھتے ہے لیکن ہم کو پھر بھی چیزیں یاد نہیں ہوتی پھر بھی اپنا اسکول کا کام یاد نہیں ہوتا۔جو اصل ٹریک ہے وہ یہ ہے کہ اونچا بولتے اپنے آواز کو اپنے دائیں کان میں جانے دو،آپ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ سکتے ہو جو کچھ آپ پڑھو آپ کے دائیں کان میں جائے۔کیونکہ سائنس دانوں کے مطابق جو چیز ہمارے دائیں کان میں جاتی ہیں وہ چیزیں ہمیں زیادہ دیر تک یاد رہتی ہیں،ہمارا دایا کان ہماری لانگ ٹرم میموری سے جڑا ہوا ہے شاید اس لیے جو بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے۔


یونیک بنانے کی کوشش کرو

آپ جس چیز کو یاد کر رہے ہیں اسے یونیک بنانے کی کوشش کرو کسی بھی چیز کو یونیک بنانے کے لیے آپ الگ الگ رنگوں کے ہائی لائٹرز استعمال کر سکتے ہو آپ اپنے کسی بھی پہراگراف کی پہلی تین لائنوں کو زرد کلر کی ہائی لائیٹر سے رنگ دو،اور باقی تین لائینو کو سرخ ہائی لائیٹر سے رنگ دو اور اس کے بعد والی تین لائنوں کو سبز ہائی لائیٹر سے رنگ دو،اس طرح جب آپ پڑھو گے تو آپکو ایک یونیک چیز ملے گی اور وہ اسے جلدی یاد کرنے کی کوشش کرے گا۔اب آپ ذرا امیجن کرو کہ آپ کسی پارک میں روزانہ جاتے ہو،اور وہاں پہ کالے رنگ کی بہت سارے کتے ہوتے ہیں۔اب ایک دن آپ گئے وہاں پہ بہت سارے کتوں کے اندر ایک سفید کتا بھی تھا،تو کیا پھر آپ کو یہ بھولے گا،وہ آپ کو کبھی بھی نہیں بھولے گا ۔اسی طرح جو یونیک چیزیں ہوتی ہے،وہ ہمارے لانگ ٹرم میموری میں زیادہ جلدی چلی جاتی ہے۔اسی لیے کسی بھی ٹاپک کو زیادہ سے زیادہ یونیک بنانے کی کوشش کرو،آپ اسے فزیکلی بھی یونیک بنا سکتے ہیں اور پڑھتے ہوئے بھی اسے یونیک پڑھ سکتے ہیں۔


اپنے آپ کو پڑھاو

ہمارا دماغ کسی بھی ایسے چیز کو لانگ ٹرم میموری میں نہیں بھیجتا،جو کلیئر نہیں ہوتی اگر کوئی ٹاپک آپ کی دماغ کے اندر مکمل کلیئر ہے تو آپ کی لانگ ٹرم میموری میں چلا جائے گا۔اگر آپ نے اسے رٹا ہواہے اور مکمل کلیئر نہیں ہے تو آپ کی شارٹ ٹرم میموری میں رہے گا،اور کچھ دیر بعد وہاں سے ختم ہو جائے گا۔ہمارا کوئی بھی ٹاپک اس وقت کلیئر ہوتا ہے جب ہم کسی کو پڑھاتے ہیں۔اب آپ کے پاس پڑھانے کیلئے کوئی شخص نہیں ہوگا لیکن آپ خود تو اس وقت موجود ہوں گے اس لیے جو آپ نے پڑھا ہے۔جو آپ نے سمجھا ہے اسے خود کو ہی سمجھانا شروع کر دو۔اگر آپ کوئی ٹاپک پڑھنے کے بعد اپنے آپ کو پڑھاتے ہو تو چانسز بہت زیادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ چیز آپ کی لانگ ٹرم میموری میں چلا جائے گی۔ہمارے دماغ کے اندر بلینوں میں نیوران ہے،جب آپ کسی چیز کو پڑھتے ہو اور پھر خود اس چیز کو سمجھتے ہو،تو اس سے ہمارے دماغ کی نیوران کی کنکشن مضبوط ہوجاتی ہے۔اور پھر وہ چیز آپ کو کبھی نہیں بھولتے۔جب آپ کسی چیز کو کچھ دنوں بعد ریوائز نہیں کرتے،تو وہ نیوران کنکشن کمزور ہونا شروع ہوتا ہے۔اگر آپ کسی ٹاپک کو پڑھنے کے بعد اگلے چھ مہینوں کے اندر پانچ یا چھ دفعہ ریوائز کرونگے،تو ایسے نیوران کنکشن بن جائیں گے جو کبھی بھی کمزور نہیں ہوں گے۔اگر اپنے دماغ کی نیوران کنکشن مضبوط کرنا چاہتے ہو تو اپنے آپ کو سمجھانا شروع کردو۔


پڑھنے کے بعد سونا

یہ جو ہمارا دماغ ہے اس کی بھی کچھ قوانین ہے اب آپ کا دماغ ہر وقت ڈیٹا شارٹ ٹرم میموری سے لانگ ٹرم میموری میں نہیں بھیجتا،اور نہ ہی ہر وقت میں نیوران کنکشن بناتا رہتا ہے۔جب آپ سو جاتے ہو تو اس وقت آپ کا دماغ یہ سارے کام کرتا ہے۔اگر آسان الفاظ میں کہو ہو تو سارا دن آپ اپنے دماغ میں ڈیٹا لے کر شارٹ ٹرم میموری میں رکھتے ہو،اور پھر جب آپ سو جاتے ہو تو ہمارا دماغ اس شارٹ ٹرم میموری میں سے جو انفارمیشن اسے اچھے لگتے ہیں یا جو انفارمیشن یونیک ہوتی ہیں اسے شارٹ ٹرم میموری سے لانگ ٹرم میموری میں بھیج دیتا ہے۔اور وہ چیز پھر آپ کو یاد رہتی ہے۔اسی لیے کسی بھی ٹاپک کو یاد کرنے کے بعد سونا بہت ضروری ہے،اور جو کچھ آپ نے نیا سیکھا ہوتا ہے تو سونے کے بعد ہمارا دماغ اس چیز کی نیوران کنکشن بنانا شروع کرتا ہے۔ اگر آپ کسی ٹاپک کو یاد کرنے کے بعد سوتے نہیں تو بہت زیادہ چانسز بڑھ جاتا ہے کہ آپ اسی ٹاپک کو جلدی بھول جاؤ گے،مگر آپ ان چیزوں کو فالو کرتے ہوئے کسی بھی چیز کو یاد کرو گے تو بہت چانسز بڑھ جائے گی کہ ڈیٹا آپکی لانگ ٹرم میموری میں جائے،اور پھر آپ اس چیز کو بہت لمبے عرصے تک یاد رکھ سکو۔اگر آپکو یہ پوسٹ اچھا لگے تو اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شئیر کریں۔شکریہ

Reactions

Post a Comment

0 Comments